حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حضور ﷺ کے مرتبہ کی ایک یہ بھی شان ہے کہ اللہ عزوجل نے حضور ﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت فرمایا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے:
﴿مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقدْ اَطَاعَ اللهَ﴾
جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اس نے اللہ کا حکم مانا (النساء:۸۰)
ایک اور جگہ فرمایا :
﴿قلْ إِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللهُ ﴾
اے محبوب! تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ، اللہ تمھیں دوست رکھے گا۔( آل عمران: ۳۱)
چنانچہ ایک روایت کے مطابق جب یہ آیت نازل ہوئی تو کفار کہنے لگے کہ (معاذ اللہ) حضور ﷺ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو رب (خدا) بنا لیں ، جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا بنا لیا ہے۔ (اخرجہ ابن المنذ رعن مجاہد و قتادہ رضی اللہ عنھما کما فی مناہل الصفا للسیوطی ص۳۳) تو اللہ عزوجل نے ان کو رسوا کرنے کےلیے یہ آیہ کریمہ:
﴿قلْ أَطِيْعُوْا اللهَ وَالرَّسُوْلَ ﴾ (آل عمران: ۳۲)
(تم فرما دو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا) نازل فرما کر اپنی فرمانبرداری کو رسول ﷺ کی فرمانبرداری کے ساتھ ملا دیا۔
مفسرین کرام رحمہم اللہ اس آیت کریمہ:
﴿اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ(5) صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ﴾
ہم کو سیدھا راستہ چلا ، راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا (فاتحہ:۵)
کے معنی میں اختلاف کیا ہے ، چنانچہ ابو العالیہ اور حسن بصری رحمہما اللہ نے صراط مستقیم سے حضور ﷺ کی ذات کریمہ ’’ انعمت عليهم‘‘ سے خیار ( پسندیدہ) اور کبار اہل بیت لیے ہیں، کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنھم مراد لیے ہیں ، (حکاہ عنھما ابوالحسن الماوردي رحمه الله) اور انھیں دونوں سے مکی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی روایت نقل کرتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ اور دونوں صحابہ حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما مراد ہیں۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#الشفاء_شریف
#ShanEMustafa
#Quran
#ProphetMuhammad
#AshShifa
#AlShifa
#QadiIyad
#Islam
#Islamic
#ThinkGoodGreen